Friday, March 6, 2026

Badalti Hui Duniya Aur Nojawanon Ki Zimmedari

 بدلتی ہوئی دنیا اور نوجوانوں کی ذمہ داری

               نعمان علی بھٹی

               

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی، معیشت، سیاست اور معاشرتی اقدار ہر دن نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ ایسے وقت میں سب سے اہم کردار نوجوان نسل کا ہوتا ہے کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جو آنے والے کل کی قیادت سنبھالتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہی ہماری سب سے بڑی طاقت بھی بن سکتی ہے۔

آج کے نوجوان کے پاس وہ سہولتیں موجود ہیں جو چند دہائیوں پہلے تصور بھی نہیں کی جا سکتی تھیں۔ انٹرنیٹ، موبائل فون اور جدید تعلیم نے معلومات تک رسائی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ اب ایک طالب علم دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں کے لیکچرز بھی گھر بیٹھے سن سکتا ہے اور مختلف مہارتیں آن لائن سیکھ سکتا ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس سہولت کو صحیح طریقے سے استعمال کر رہے ہیں؟ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت سے نوجوان سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ گھنٹوں موبائل فون استعمال کرنا، بے مقصد ویڈیوز دیکھنا اور غیر ضروری بحثوں میں پڑ جانا نوجوانوں کی صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے۔

اس کے برعکس اگر یہی وقت تعلیم، تحقیق اور مہارت حاصل کرنے میں لگایا جائے تو نوجوان نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آج دنیا میں کامیابی صرف ڈگری سے نہیں بلکہ مہارت سے ملتی ہے۔ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، پروگرامنگ، گرافک ڈیزائننگ اور دیگر جدید ہنر نوجوانوں کے لیے بے شمار مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

پاکستان میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ کئی شعبوں میں ہنر مند افراد کی کمی ہے۔ اگر نوجوان جدید مہارتیں سیکھ لیں تو نہ صرف اپنے لیے روزگار پیدا کر سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

معاشرتی ذمہ داری بھی نوجوانوں کے کردار کا اہم حصہ ہے۔ ایک مہذب معاشرہ اس وقت بنتا ہے جب اس کے افراد قانون کی پابندی کریں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور مثبت سوچ کو فروغ دیں۔ نوجوان اگر مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں، تعلیم کو ترجیح دیں اور معاشرتی مسائل کے حل میں کردار ادا کریں تو معاشرہ خود بخود بہتر ہو سکتا ہے۔

سیاسی شعور بھی نوجوانوں کے لیے ضروری ہے۔ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر نوجوانوں کو ملک کے مسائل، پالیسیوں اور قومی معاملات کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے۔ لیکن اس شعور کا مقصد صرف تنقید نہیں بلکہ بہتری کے لیے عملی اقدامات ہونا چاہیے۔

آج کی دنیا مقابلے کی دنیا ہے۔ جو قومیں تعلیم، تحقیق اور محنت کو ترجیح دیتی ہیں وہی ترقی کرتی ہیں۔ اگر پاکستانی نوجوان اپنے وقت کو منظم کریں، نئی مہارتیں سیکھیں اور مثبت سوچ اپنائیں تو پاکستان کے مستقبل کو روشن بنایا جا سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر اس سرمایہ کو صحیح سمت دی جائے تو یہی نوجوان پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنے وقت، صلاحیت اور توانائی کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں۔

تحریر: نعمان علی بھٹی

No comments:

Post a Comment

Featured Jobs

Faysal Bank jobs latest jobs 2026