پیر انتظار حسین مصور
عالمی جنگی جنون، پٹرول بحران اور ہماری قومی ذمہ داری
ایک ایسا ملک جہاں پہلے ہی معاشی بحران، کمر توڑ مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، وہاں پٹرول ختم ہونے کے قریب ہے، جس کی وجہ سے ہماری صنعتیں بند ہو رہی ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج ہو چکا ہے، اور عام آدمی کا روزگار ختم ہوتا جا رہا ہے۔
امریکی اور مغربی طاقتیں، جو اپنے استعماری مفادات کے لیے دنیا کو جنگ کی آگ میں دھکیلتی رہی ہیں، آج پاکستان کی قیادت کے بارے میں مختلف بیانات دے رہی ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، تو دوسری طرف موجودہ وزیرِ اعظم کی حکومتی کارکردگی اور سیاسی بصیرت کے حوالے سے بھی بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ قیادت اتنی ہی "عظیم" اور عالمی حلقوں میں بااثر ہے، تو پھر اس اثر و رسوخ کا عملی مظاہرہ کہاں ہے؟ کیا ہماری یہ "عظمت" صرف سفارتی ملاقاتوں اور تعریفی کلمات تک محدود ہے، یا اس کا فائدہ عوام کو بھی پہنچے گا؟
کیا اب وقت نہیں آیا کہ ہماری اعلیٰ ترین عسکری و سیاسی قیادت اپنی اسی "عظمت" اور عالمی ساکھ کو بروئے کار لاتے ہوئے اس جنگی جنون کو رکوانے میں اپنا کلیدی اور عملی کردار ادا کرے؟ ہم کب تک دوسروں کی لڑائیوں کا ایندھن بنتے رہیں گے؟
آج ہمارا ایندھن ختم ہونے کو ہے، ہماری چھوٹی صنعتیں بند ہو رہی ہیں، اور عام آدمی روزگار کی تلاش میں دربدر ہے۔ جب قومیں اپنے قومی مفاد اور بقا کے بجائے عالمی طاقتوں کے ایجنڈے پر چلتی ہیں، تو انجام یہی ہوتا ہے کہ ان کا اپنا گھر جل رہا ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے لیے پانی بھر رہے ہوتے ہیں۔
عالمی طاقتوں کی "تعریف" محض ایک وقتی تماشہ ہے، جس کا مقصد ہمیں ان کے جنگی اہداف میں استعمال کرنا ہے۔ ہماری قیادت کو اب اپنی "عظمت" کو ثابت کرنے کے لیے کسی سفارتی پروٹوکول کی نہیں، بلکہ ایک جرات مندانہ فیصلے کی ضرورت ہے۔
اگر ہم واقعی ایک باوقار قوم ہیں، تو ہمیں اپنے عوام کو اس تباہی سے نکالنے کے لیے سفارتی محاذ پر سرگرم ہونا ہوگا۔ ہمیں عالمی برادری میں یہ آواز اٹھانی ہوگی کہ مزید جنگوں کا متحمل نہ تو یہ خطہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی دنیا۔
مزید برآں، پاکستان کی معیشت کا دارومدار زراعت اور صنعت پر ہے، اور دونوں کا پہیہ ایندھن کے بغیر نہیں چل سکتا۔ جب پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھوتی ہیں یا ایندھن کی قلت پیدا ہوتی ہے، تو زرعی اجناس کی نقل و حمل مہنگی ہو جاتی ہے، جس سے افراطِ زر میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔
عام آدمی، جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے، اب بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو رہا ہے۔ نوجوان طبقہ، جو ملک کا اثاثہ ہے، روزگار کے مواقع نہ ملنے کے باعث شدید مایوسی کا شکار ہے۔ یہ صورتحال معاشرتی انتشار کو جنم دے رہی ہے۔
اگر اس وقت ہماری قیادت جنگ بندی کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات نہیں کرتی، تو تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ جب دنیا جنگ کی آگ میں جل رہی تھی اور پاکستان کا عام شہری مہنگائی اور ایندھن کے بحران میں پس رہا تھا، تو "عظیم" کہلانے والوں نے کیا کیا؟
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے قومی وقار کو مقدم رکھیں، بیرونی دباؤ سے نکل کر اپنی معاشی خودمختاری بچائیں، اور اس جنگی جنون کے سامنے ایک مضبوط "پاکستانی مؤقف" پیش کریں۔
خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔ ہمارا ملک مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ قیادت کو اب میدان میں اتر کر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا اصل کمال محض بیانات نہیں، بلکہ بحرانوں سے قوم کو نکالنا ہے۔
ہمیں اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر ایسی حکمتِ عملی ترتیب دینی ہوگی کہ ایندھن کی سپلائی یقینی ہو اور ہم عالمی جنگی سیاست کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ قلم کی طاقت سے ہم صرف شعور بیدار کر سکتے ہیں، لیکن عملی اقدامات حکومت کا فرض ہیں۔
امید ہے کہ ہماری قیادت ہوش کے ناخن لے گی اور قوم کو اس گرداب سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔
تحریر: پیر انتظار حسین مصور

بے حد شکریہ بھائی
ReplyDelete