تعلیم اور نوجوانوں کی ذمہ داری
مصنف: نعمان علی بھٹی
آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے معاشرے میں نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے جوش و جذبے، سوچ اور عمل ہی ملک کی ترقی اور مستقبل کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تعلیم اور شعور کی کمی کی وجہ سے بہت سے نوجوان اپنی اصل صلاحیتوں کا مکمل فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔
تعلیم صرف کتابی علم نہیں بلکہ ایک انسان کی شخصیت، سوچ اور رویے کو بھی تشکیل دیتی ہے۔ ایک پڑھے لکھے نوجوان میں نہ صرف خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے بلکہ وہ معاشرتی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو بھی بہتر طور پر سمجھ پاتا ہے۔ یہ ذمہ داری صرف خود کے لیے نہیں بلکہ اپنے خاندان، معاشرے اور وطن کے لیے بھی ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر نوجوان تعلیم کی اہمیت کو کم سمجھتے ہیں یا عارضی فوائد کی دوڑ میں اپنی تعلیم کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ان کی ذاتی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ قوم کی ترقی میں بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جدید دنیا کی ضروریات کے مطابق خود کو مسلسل تیار کریں اور تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
حکومت اور معاشرتی اداروں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کریں، معیاری تعلیم اور رہنمائی فراہم کریں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور شعور رکھنے والا نوجوان معاشرے میں مثبت تبدیلی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نوجوانوں کی کامیابی اور قوم کی ترقی آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ تعلیم، شعور اور اخلاقی تربیت نوجوانوں کی ترقی کی بنیاد ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو علم، محنت اور درست رویے سے تیار کریں تاکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔

No comments:
Post a Comment