قانون کا ڈر اور معاشرے کا نظام
آج کے دور میں کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں قانون کی حکمرانی کتنی مضبوط ہے۔ جہاں قانون کا احترام ہوتا ہے، وہاں انصاف بھی ہوتا ہے اور امن بھی قائم رہتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشروں میں اکثر لوگ قانون سے محبت کم اور خوف زیادہ رکھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک مضبوط اور مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں قانون کا خوف نہیں بلکہ قانون کا احترام دلوں میں بسا ہوتا ہے۔
قانون دراصل کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ اگر یہ ریڑھ کی ہڈی کمزور ہو جائے تو پورا نظام بکھرنے لگتا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں لوگ قانون کو صرف سزا سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھ کر مانتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں مسئلہ یہ ہے کہ اکثر لوگ قانون کو اس وقت تک اہمیت نہیں دیتے جب تک انہیں سزا کا خوف نہ ہو۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو بچپن سے ہی قانون کے احترام کی تربیت دی جائے۔ اسکول، گھر اور سماج سب مل کر اس ذمہ داری کو نبھائیں۔
قانون کا خوف اگر مثبت انداز میں ہو تو یہ معاشرے کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ خوف صرف سزا سے بچنے تک محدود ہو جائے تو معاشرتی اخلاقیات کمزور ہونے لگتی ہیں۔
ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جہاں امیر اور غریب سب کے لیے قانون ایک جیسا ہو۔ اگر قانون طاقتور لوگوں کے لیے نرم اور کمزور لوگوں کے لیے سخت ہو تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی قانون کی حکمرانی ایک اہم مسئلہ ہے۔ یہاں عوام اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ انصاف کا نظام سست ہے۔ اس وجہ سے بعض لوگ خود ہی فیصلے کرنے لگتے ہیں جو مزید مسائل پیدا کرتا ہے۔
قانون کا خوف اگر ذہن میں بیٹھ جائے تو جرائم کی شرح کم ہو جاتی ہے۔ لیکن صرف سختی کافی نہیں ہوتی، ساتھ ساتھ تعلیم اور شعور بھی ضروری ہوتا ہے۔
والدین کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی سچ بولنے، وعدہ پورا کرنے اور قانون کی پابندی کرنے کی تربیت دیں تو مستقبل میں ایک بہتر معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ قانون کسی بھی ملک کی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں قانون سے ڈرنے کی بجائے قانون کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ یہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی

No comments:
Post a Comment