نوجوان نسل اور ڈیجیٹل دور کے تقاضے
نعمان علی بھٹی
موجودہ زمانہ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ ڈیجیٹل انقلاب نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اس تبدیلی کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ آج کا نوجوان موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے بغیر اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ سہولتیں جہاں ترقی کے دروازے کھول رہی ہیں، وہیں نئے چیلنجز بھی سامنے لا رہی ہیں۔
ڈیجیٹل دور نے معلومات تک رسائی کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ پہلے کسی موضوع پر تحقیق کرنے کے لیے لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے تھے، مگر اب چند لمحوں میں ہزاروں مضامین اور ویڈیوز دستیاب ہو جاتی ہیں۔ یہ سہولت نوجوانوں کے لیے ایک قیمتی موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں اور عالمی معیار کا علم حاصل کریں۔
آن لائن تعلیم، فری لانسنگ اور ای کامرس نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ پاکستان میں بھی ہزاروں نوجوان انٹرنیٹ کے ذریعے بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ یہ مثبت رجحان ملک کی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
لیکن ہر سہولت کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال وقت کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے۔ کئی نوجوان گھنٹوں غیر ضروری مواد دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح آن لائن دنیا میں منفی رجحانات اور غلط معلومات بھی پھیلتی رہتی ہیں جو ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہیں۔
والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں۔ انہیں سکھایا جائے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ ہنر سیکھیں، آن لائن کورسز کریں اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں۔
اگر نوجوان نسل ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کرے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتی ہے بلکہ ملک کی تقدیر بھی سنوار سکتی ہے۔ ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنا اور وقت کی قدر کرنا ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
تحریر: نعمان علی بھٹی

No comments:
Post a Comment